ترقی اور ہم

کھبی کھبی میں خیالات کی دنیا میں جا کر سوچتا ہوں کہ شائد پرانا وقت بہت ہی اچھا، سادہ اور ماحول دوست تھا۔ گو کہ اس وقت سہولیات کم یا نہ ہ

dscn4064 medium

dscn4064 medium

ونے کے برابر تھیں مگر انسان اور دیگر مخلوقات خوشحال تھے۔ خصوصاً انسان ماحول سے ہم اہنگ تھا اور ماحول پر اسکا دارومدار بہت ذیادہ تھا۔ یہی وجہ تھی کہ عام انسان حرص سے پاک تھا۔ مگر پچھلے کچھ صدیوں سے نام نہاد ترقی نے تمام مخلوقات کا جینا حرام کر رکھا ہے۔ انسان اپنی ہی نام نہاد ترقی اور ٹیکنالوجی کا ستعمال کرکے اپنے لئے ہی تباہی و بربادی کا گھڑا کھود رہا ہے۔ یہ تباہی ہمارے جیسے تیسری دنیا کے ملکوں میں بہت ذیادہ نظر آرہی ہے۔ ہماری ذہنی ترقی اس رفتار سے نہیں ہورہی جتنی ہمیں ٹیکنالوجی کی جدت میسر آرہی ہے۔ اور اسی بے لگام گھوڑے کے بدترین اثار ہمارے معاشرے پر نمودار ہورہے ہیں۔ ترقی یافتہ ممالک میں اگر ٹیکنالوجی رائج ہو رہی ہے تو وہاں ضابطے بھی بن رہے ہوتے ہیں۔ تحقیق بھی ہو رہی ہوتی ہے مگر ہمارے یہاں تو ارباب اختیار اس معاملے پر انکھیں بند کر لیتے ہیں۔ جس کے سبب افراتفری کا عالم بن جاتا ہے اور اس کا استعمال اچھائ کی بجائے برائ کے لئے ذیادہ ہوتا ہے۔ موبائل ہی کو دیکھ لیں۔بر وقت رابطے کی سہولت ہے۔ اگر نیٹ موجود ہو تو بہت ساری معلومات تک رسائ ممکن ہو جاتی ہے۔ موسم کے حال سے باخبر ہو سکتے ہو، بینکنگ کی سہولت اور پیسوں کی ترسیل وغیرہ وغیرہ ایک فائدہ مند چیز ہے لیکن اگر اسکا استعمال برائ کے لئے کیا جائے تو نوبت قتل مقاتلے تک آجاتی ہے۔ اور یا آپ سے پیسے ھڑپ کرنے کے لئے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ وغیرہ وغیرہ

کل ہمارے یہاں کسٹم ایکٹ کے نفاذ پر احتجاج ہورہا تھا۔ احتجاج شائد 2 گھنٹے کے لئے تھا اور احتجاج ختم ہونے کے بعد بھی ٹریفک کی روانی مزید 2 گھنٹے کے لئے معطل رہی۔ بہت سارے لوگ بوڑھے، بچے، بیمار اور خواتین اس ذہنی و جسمانی کوفت سے دوچار تھے۔ میرے اندازے کے مطابق شائد گاڑیوں کی تعداد اتنی ذیادہ نہیں تھی جتنی بے ہنگم طریقے سے وہ گاڑیاں رش سے نکالنے کے لئے غلط ڈرائیو کرتے ہوئے ٹریفک جام کا سبب بنی۔ ہمارے یہاں ہر کسی کو صرف اپنی ذات کی فکر ہوتی ہے باقی لوگ جائے باڑ میں۔ چند ایک ڈرائیورز کو سمجھانے کی بھی کوشش کی گئی مگر وہ سمجھنے سے قاصر رہے۔
ملاکنڈ ڈویژن میں چونکہ کسٹم ایکٹ نافذ نہیں لہذا یہاں غیر کسٹم ٹیکس ادا شدہ گاڑیوں کی فراوانی ہے۔ نہ تو اس کے لئے باقاعدہ کوئ ضابطہ ہے نہ قانون۔ کھبی گاڑیاں یونین کونسل، کھبی ٹی ایم اے، کھبی تھانہ کے ساتھ رجسٹر ہوتی آرہی ہیں۔ ان گاڑیوں کی تعداد کا کوئ پتہ نہیں۔ کافی ذیادہ چوری کی گاڑیاں اسی این سی پی کے نمبر لگا کر گھوم رہی ہیں۔ اگر نمبر نہ بھی لگاو تو کوئ فرق نہیں پڑتا اور نہ ہی کوئ پوچھے گا۔ چھوٹی گاڑی دو، ڈھائ لاکھ میں مل جاتی ہے۔ ادھار پر بھی مل جاتی ہے۔ کسی بھی پاک افغان بارڈر پر اس سمگلنگ کو روکنے کا سلسلہ موجود نہیں۔ بلکہ یہ ایک منظم کاروبار ہے جس میں بااثر افراد و ادارے شامل ہوتے ہیں۔ ریکارڈ کی غیر موجودگی کی وجہ سے ان گاڑیوں کو دیگر جرائیم کے لئے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ گاڑیوں کی فراوانی کی وجہ سے سڑکیں تنگ ہیں۔ ہر جگہ آپ کو مین سڑک پر گاڑیاں پارک ہوتی ہوئ نظر آتی ہیں۔ ہمارے علاقے میں ہم بڑے بڑے مارکیٹ اور پلازے تو بناتے ہیں مگر پارکنگ ندارد اور پارکنگ کے لئے مین سڑک کا استعمال ہوتا ہے۔ اس معاملے میں پولیس بھی بے بس نظر آتی ہے۔ ہم حکومت سے مطالبہ تو کرتے ہیں کہ کسٹم ایکٹ کا نفاذ نہ کرو مگر ہم سڑک کو کشادہ کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ اب اس مسئلے کا کیا حل نکلے گا؟
کسی دوست کی دل آزاری ہوئ ہو تو معذرت۔
Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s