قتل عام، تعلیم دشمنی اور شریک جرم….. ابراش پاشا

پیچھلے 10 سالوں سے ذائد کا عرصہ گذرا ہےکہ ہمارے علاقے میں امن و امان کی صورتحال کافی خراب رہی ہے۔ بعض اوقات اس میں کچھ بہتری بھی آئ اور لوگوں نے سُکھ کا سانس لیا۔ اس بحث میں اب نہیں جاتے کہ علاقے میں طالبانئزیشن کے عوامل کیا ہیں۔ میں صرف پیچھلے تقریباً 10 سالوں کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کرونگا۔ جب طالبانئزیشن کا ظہور ہونے لگا تو حجام، میوزک سنٹرز، اور لڑکیوں کے سکولز کو تنبیہ ملی کہ داڑھی منڈوانا چھوڑ دو، میوزک کا کاروبار چھوڑ دو اور لڑکیاں شٹل کاک برقع کا استعمال کرے۔ ان حالات پر لوگوں کا کوئ خاص ردعمل نہیں آیا کچھ حجام نے اپنی دکان بند کی، کچھ نے میوزک کا کاروبار بند کیا اور نعتوں اور تلاوت کے آڈیو کیسٹس رکھنے شروع کئے۔ لڑکیوں نے برقع کا استعمال کرنا شروع کیا۔ اسکے بعد ان شدت پسندوں نے اپنی کاروائیاں شروع کیں۔ حجام کی دکانیں، میوزک سنٹرز اور لڑکیوں کے سکول جلانے اور دھماکے سے اُڑانے شروع کئے۔ پھر بھی عوام کی طرف سے کوئ خاطر خواہ رد عمل نہیں آیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ نہ پولیس اور نہ سیکورٹی اداروں نے لوگوں کو تحفظ فراہم کیا۔ لگتا ایسے تھا کہ ارباب اختیار نے انکھیں چھپائے ہوئے ہیں۔ پولیس بھی سیکورٹی دینے کی بجائے کاروبار اور سکولز بند کرنے کے احکامات جاری کر
p2رہی تھی۔ اس صورتحال میں سیاسی پارٹیاں بھی خاموش تماشائ بنے ہوئے تھے۔
وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ دھمکیوں، جلاو اور بموں سے آڑانے کا سلسلہ بھی وسیع ہوتا گیا۔ بازاروں، مساجد، جنازوں، پولیس، علاقے کے مشران، مخصوص سیاسی لیڈروں اور سیاسی پارٹیوں پر حملے شروع ہوئے۔ ان حالات میں افراتفرہ کا ایک عالم شروع ہوا۔ ایک مخصوص طبقہ ہر قسم کے حملوں سے بالکل محفوظ رہا۔ اور وہ ان دہشت گردوں کے لئے تاویلات گھڑتے رہے۔ حملے کی ذمہ داری طالبان لیتے مگر یہی طبقہ سرعام کہتے طالبان ایسے نہیں کر سکتے۔ یہ تو انڈیا، موساد، افغانستان اور سی آئ اے کر رہی ہے۔ اپ نیٹ پر ڈھونڈیں تو ایسے نام نہاد سیاسی و مذہبی لیڈرز کی ویڈیوز اور ٹاک شوز دیکھ سکتے ہیں جو کہتے ہیں طالبان سکول نہیں جلاتے۔
دہشت گردی کے پہلے حصے میں دہشت گرد رات کی تاریکی میں سکول، حجام اور میوزک سنٹرز جلاتے تھے۔ پھر دن دھاڑے دہشت گردی کی کاروایاں شروع ہوئیں۔ ہزاروں لوگ، مساجد، اما بارگاہوں، چرچ، مندر، ہسپتالوں، بازاروں، جنازگاہوں، سکولوں، کالجوں، جیل، ائیر پورٹس اور بسوں وغیرہ میں بے گناہ مارے گئے۔ پھر بھی دہشت گردی اور دہشت گردوں کی مذمت نہیں گئی اور یہی تاویلات گھڑے گئے کہ دہشت گردوں کا کوئ دین مذہب نہیں ہوتا۔ یہی طبقہ یہ تاویل پیش کرتے رہے کہ سکولوں کو اس لئے اڑایا جارہا ہے کہ اس میں فوج اورپولیس ٹھرتی ہے۔ اور ان کے لئے یہ سکول پنا گاہ کے ساتھ راشن و گولہ بارود سٹور کرنے کے لئے بھی استعمال ہوتے ہیں۔
آرمی سکول واقعے کے بعد صوبائ حکومت نے اپنے اپکو بری الذمہ کرنے کی خاطر پہلے ایک ارڈیننس اور بعد ازاں ایک قانون صوبائ اسمبلی سے پاس کرایا جس میں سیکیورٹی کی ذمہ داری سکولوں کے سربراہوں، مارکیٹ کے مالکان، چرچ اور مندر وغیرہ پر ڈالنے کی کوشش کی ہے۔ ریاست کی بنیادی ذمہ داری اپنے شہریوں کی تحفظ کو یقینی بنانا ہے اس بابت پولیس، فوج، و دیگر سیکوریٹی ادارے قائم کئے گئے ہیں۔ ریاستی ادارے اپنے اپکو بری الزمہ قرار دے رہی ہے۔ اب حکومت کمزور سیکورٹی کے بنا پر نجی و سرکاری سکولوں و دیگر تعلیمی اداروں، چرچ کے سربراہان پر سینکڑوں ایف آئ آرز کٹوا چکی ہے۔ یہ سب ائین کی خلاف ورزی ہے۔ ہم شہری ریاست کو ٹیکس اس بابت دیتے ہیں کہ وہ ہماری تحفظ کی ذمہ دار ہے۔ اگر ریاست تعلیم، صحت، انصاف اور سیکورٹی و زندہ رہنے کا حق نہیں دے سکتی تو شہری کس سے انصاف اور یہی حقوق مانگے گے۔
Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s