منتشر حالات میں منتشر خیالات۔ از ابراش پاشا

ہم اپنے بچوں کو تعلیمی اداروں میں پڑھنے کے لئے بھیجتے ہیں۔ کہ پڑھ لکھ کر اپنی زندگی بہتر بنائیں۔ ہمارا ہاتھ بٹائیں، معاشرہ کا ایک کار امد فرد بن جائے ، انسانیت کی خدمت کرے اور انسانی ترقی میں اپنا حصہ ڈالیں۔ ہمارے بڑھاپے میں ہماری مدد کرے ، جب بیمار ہوں
تو تیمار داری کریں اور جب ہم فوت ہوجائیں توسب سے پہلے مٹی دال کر ہمیں دفنائیں۔
high-resolution-wallpapers-wild-poppyمگر
مگر جب حالات ایسے بنیں کہ سکول، کالج اور یونیورسٹی بھیجے ہوئے ہمارے بچے واپس خود گھر نہ آئے، بلکہ دہشت گرد ان کو قتل کر دیں اور والدین ان کی لاشوں کو وصول کریں، ان کو کفن پہنائے اور تابوتوں اور جنازوں کو کندھا دیں۔ ایسے میں کلیجہ نہیں پھٹے گا تو کیا ہوگا۔ کیا ان معصوم بچوں کو شہید کہہ کر معاملہ ختم ہو جائے گا۔ کیا ان کی قتل کو پاک قربانی کا نام دے کر ان کو چھپ کیا جا سکے گا؟ کیا دھرتی ماں کے لئے جان دینے سے معاملہ حل ہوگا؟
نہیں
کھبی نہیں
ان معصوموں کے خون کا حساب مانگنا ہوگا۔ اور ذمہ داروں کو اس کا حساب دینا ہوگا۔ ریاست کی ذمہ داری کا تعین کرنا ہوگا، ریاست اور ریاستی اداروں کو جواب دہ ہونا پڑے گا۔ حفاظت کے ذمہ داری پر معمور افراد اور اداروں کی اس غفلت پر ذمہ دار ٹھرا کر سزا دنیا ہوگی۔
ہم بطور شہری اپنی حفاظت کی ذمہ داری خود کرنے کو قبول نہیں کرتے۔ ہماری حفاظت کی ذمہ داری ہماری ریاست پر ہے۔ ہماری ریاستی ادارے اس ذمہ داری پر معمور ہیں کہ وہ ہماری حفاظت یقینی بنائیں اور خونخوار بھیڑیوں کے چنگل سے ہمیں نجات دلائیں۔ اگر وہ غفلت کریں، کوتاہی کریں تو اس کے لئے وہ جواب دہ ہیں۔ ہم شہری اس بابت اپنے کچھ حقوق ریاست کے حوالے کرتے ہوئے اس مجموعی ذمہ داری نبھانے کی خاطر ٹیکس دیتے ہیں اور ریاست جو ضابطے بناتی ہے اس کو مانتے ہیں۔ اگر کسی وجہ سے کوئ بھی ریاست یا ریاستی ادارہ اس فرض کے نبھانے میں ناکام ہو تو وہ اپنا حق حکمرانی و حق وجود کھو دیتی ہے۔ اور شہریوں کو حق ہے کہ وہ اپنا نیا کوئ نظام وضع کرے۔
Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s