نج کاری یا پرائیوئٹائزیشن اور اسکے ماڈلز کیا ہیں؟ از ابراش پاشا

communist-symbol
دوستو، نجکاری سے مراد حکومت کی طرف سے کوئ بھی کام، خدمات، ٹیکس، مالیہ کے حصول کو پرائیوئٹ ادارے یا کسی فرد، کمپنی یا غیر سرکاری ادارے ،کارپوریشن کے حوالے کرنا –عوامی/ پبلک ملکیت کو پرائویٹ ادارے یا فرد کو منتقلی- کسی کام کو سرانجام دینے کے لئے سرکاری ادارے کی طرف سے اووٹ سورس کرنا۔ کسی ادارے کو کوئ روڈ یا دیگر سروسز کی تعمیر، چلانے اور مرمت وغیرہ{بنانا، چلانا، نگرانی و مرمت} کے امور دینا بھی نجکاری ہے۔ سرکاری و نجی اداروں کا ملاپ یعنی پبلک پرائوئٹ پارٹنرشپ بھی نجکاری ہے۔ کسی پبلک/ سرکاری ادارے کے تمام شئرز یا جزوی شئرز کسی ایک ادارے یا فرد وغیرہ کو فروخت کرنا بھی نجکاری ہے۔ ڈی ریگولیشن یعنی کہ سرکار کسی بھی خدمات کی فراہمی خود نہیں کر رہی اور دوسرے نجی اداروں کی طرف سے ان خدمات کی فراہمی میں عدم مداخلت کرنا اور نجی اداروں کو کھلا چھوٹ دینا تاکہ وہ قیمتوں کا تعین کرے، سروسز کاطریقہ کار وضع کرے، یا صارفین کے حقوق کے حوالے سے حکومت کم سے کم مداخلت کرے مثلاً پیٹرولیم کی قیمتیں، ٹیلی کمیونیکشن سروسز وغیرہ۔ نجکاری کی ایک اور قسم ووچرز سسٹم ہے جس میں نجی ادارے عوامی خدمات فراہم کرتے ہیں اور ان کے بدلے سرکار متعین کردہ رقم کی فراہمی کرتی ہے۔ جیسے پرائیوئٹ سکولز بچوں کو تعلیم دے او حکومت بچوں کی متعین کردہ فیس ادا کرے، یا صحت کے خدمات فراہم کرے یا خوراکی مواد کی فراہمی کرے۔ ایک اور قسم غیر سرکاری اداروں یا این جی اوز کو عوامی خدمات کے اداروں کی حوالگی مثلاً پارکس، سکولز یا ہسپتال یا عرف عام میں ٹھیکداری کا کام حوالہ کرنا مثلاً گلی کوچے پختہ کرنا، پانی کی سہولیات یا روڈ کی تعمیر وغیرہ ۔اس میں اکثرمحسوس یا غیر محسوس انداز میں عوام پر ذمہ داری کی منتقلی شامل ہوتی ہے۔ اکثر عوام یا کمیونٹی اپنا حصہ نقد رقم یا اشیا یا لیبر کی صورت میں ادا کرتی ہے۔ مزید اس کام کی مرمت اور دیکھ بھال کی ذمہ داری عوام کو منتقل کی جاتی ہے۔ ایسے پراجیکٹس عموماً عالمی بینک کے مدد سے پایہ تکمیل کو پہنچائے جاتے ہیں اور ان کی ہمکاری رورل سپورٹ ارگنائزیشنز کرتے ہیں۔ ایسے کاموں کا مقصد عموماً سرکاری افسران یا اداروں اور عوام کی توجہ عوامی خدمات میں نجکاری کی طرف مبذول کرانا ہوتی ہے اور جو کمیونٹی ذیادہ سے ذیادہ شئیر یا حصہ داربن سکتی ہو ان کے پراجیکٹس جلد اور ذیادہ ترجیح کے قابل ہوتے ہیں۔ ایک دوسری قسم جسکو تھچریزم کہتے ہیں جس میں وعوامی یا پبلک اثاثے ہی بیچے جاتے ہیں مثلاً ہمارے صوبے میں جی ٹی ایس کی فروختگی، یا سٹیل مل کے فروخت کا پروگرام۔ یا ڈینز ہوٹلز کی فروختگی نہ تو جی ٹی ایس ٹرانسپورٹ فراہم کر رہی ہے اور نہ ڈینز قیام و تعام کی خدمات فراہم کر رہی ہے۔ اسی طرح کسی بھی سرکاری اہلکاران یا عوام کی تربیت کے لئے غیر سرکاری یا نجی فرموں کو تربیت کی ذمہ داری دینا بھی نجکاری کے عمل کا حصہ ہے۔
ہمارے صوبے خیبر پختونخوا میں نجکاری کے اقسام:
1۔ اقرا ء فروغ تعلیم- ووچر سسٹم
2۔ ستوری پختونخوا پروگرام- ووچر سسٹم
3۔ جماعت پنجم کے امتحان کے لئے نجی فرم کے خدمات کا حصول یا این ٹی ایس پروگرام [اوٹ سورسنگ]
4۔ کسی فرد یا مخیر ادارے کو ایک سکول کی حوالگی- پبلک پرائیوئٹ پارٹنرشپ
5۔ صحت کا انشورنس کارڈ
6- صوبے کے بی ایچ یوز کسی غیر سرکاری ادارے یعنی پی پی ایچ آئ یا ایس آر ایس پی کو حوالگی
7- اضلاع میں این جی اوز کو ڈسپنسری، ایم سی ایچ، بی ایچ یوز، ار ایچ سیز، ٹی ایچ کیوز اور سول ہسپتالوں کی حوالگی مثلاً مرلن وغیرہ
8-خیبر پختونخوا ٹورزم کارپوریشن کے گیسٹ ہاوسز و موٹلز کی نجی اداروں کو حوالگی
9- گورنمنٹ ٹرانسپورٹ سروس – جی ٹی ایس کی فروختگی
10- سرکاری کالجوں اور یونیورسٹیوں میں سیلف فائینانس
11- سرکاری ہسپتالوں میں ادارتی بنیاد پر کام- انسٹی ٹیوشن بیسڈ پریکٹس
12-پانی و صفائ کے خدمات- واٹر اینڈ سینیٹیشن سروسز کمپنی پشاور
13- تربیت اساتذہ کی ذمہ داری این جی اوز یا نجی فرموں کو دینا
Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s