پانامہ لیکس اور ‘چند لوگوں’ کی خوشی۔۔۔۔۔۔ از ابراش پاشا

 

حالیہ پانامہ لیکس نے بہت سارے ممالک کے سیاسی، سرمایہ دار اور چور افراد و اداروں کو بے نقاب کیا ہے۔ کسی بھی طرح لوٹ مار کو جائز قرار نہیں دیا جا سکتا۔ اور لوگوں کے پیسے چرا کر باہر ممالک میں فرضی کمپنیاں اور ادارے بنا کر اسے تحفظ دینا اور اس میں مزید اضافہ کرنا ایک ظلم ہے اور اسکا حساب کتاب اور واپس لانے کے لئے اقدامات ہونی چاہئے۔ مزید اس ملک میں ہزاروں لوگوں نے بینکوں کے پیسے ادھار لے کر مختلف طریقوں سے معاف کروائے ہیں۔ یہ بھی ایک بڑی ظلم کی بات ہے اور اس کا بھی حساب کتاب ہونا چاہئے۔ یہ با اثر افراد ہمیں مختلف طریقوں سے لوٹ رہے ہیں اور ہم ان کو اپنے لیڈر اور خیر خواہ مان رہے ہوتے ہیں۔ اس ملک میں ظلم کے کیا کہنے۔ ہمارے ہاں تو پچھلے ایک عشرہ سے خون کی ہولی کھیلی جا رہی ہے۔ چن چن کے شہریوں کو مارا جا رہا ہے۔ سکول، مارکیٹ، مسجد، مکتب، جنازہ گاہ و عید گاہ تک محفوظ نہیں۔ پانامہ لیکس کے حساب کتاب  پر تو ‘سیاسی لوگ’ متفق نظر آرہے ہیں جن میں خود چور بھی شامل ہیں مگر خون کی ہولی  کھیلنے والوں کے خلاف کوئ اکٹھ نہیں ہو رہی۔ مہنگائ جو سب کا خون چوس رہی ہے اور میڈیا تواتر سے ایسے واقعات دکھا رہی ہے کہ لوگ بھوک کے مارے خود کشی کر رہے ہیں۔ دو ڈھائ لاکھ روپے نہ ہونے کے سبب معصوم بچے دل میں سوراخ کا علاج نہ کرسکنے کی وجہ سے سسک سسک کر مر رہے ہیں۔ پھر بھی ان کی مدد کو کوئ نہیں آیا او ر نہ اس نظام کو ذمہ دار ٹھرایا گیا کہ ان بھوک سے بے حال افراد کی بحالی ریاست کی ذمہ داری ہے۔ یا ان بے کسوں کے علاج کی ذمہ داری حکومت پر لازم ہے۔

ہم تو اس دوراہے پر کھڑے ہیں اور فیصلہ نہیں کر پا رہے ہیں کہ معاشی طور ہمارا خون چوسنے والے ہمارے دوست ہیں یا ہمارے گلے کاٹنے والے اور خون بہانے والے ہمارے دوست ہیں؟ معاشی استحصال کرنے والے ان دنوں لوگوں کے تذکروں اور مباحثوں میں شامل ہیں ان میں وہ لوگ بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے ہیں جن کے ہاتھ بے گناہوں کے خون سے رنگے ہوئے ہیں۔ سٹیج اور میڈیا پر بڑی بڑی اُڑا  رہے ہیں۔ خوش ہو کر فخر سے بتا رہے ہیں کہ پانامہ لیکس میں ہمارے نام نہیں۔ مگر ہے کسی میں ہمت کہ پوچھ لے  کہ آپ کب ہزاروں لوگوں کے خون کا حساب کتاب دو گے؟ میری رائے میں تو دونوں قاتل ہیں مگر کس کا احتساب پہلے ہونا چاہئے؟ معاشی قاتل کا یا گلے کاٹنے والے قاتل کا؟

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s