کل 28 جولائی کے سپریم کورٹ کے فیصلے پر میرا نکتہ نظر۔۔۔۔۔۔۔۔۔ از ابراش پاشا

کل کے سپریم کورٹ کے فیصلے پر ہر کوئی اپنے سوچ فکر کے حوالے سے رائے دے رہا ہے۔ کوی اس کو من و عن قبول تو کوی مکمل مسترد کرتا ہے۔ چند کو قانونی پیچیددگیوں اور انصاف کے تقاضوں کو پورا نہ کرنے پر بحث کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔ کوئی اس کو مبنی بر انصاف اور کوئی اس کو انصاف کا قتل قرار دے رہے ہیں۔ چند ایک اس کو شروعات اور ایندہ اس کے تسلسل کو جاری دیکھ رہے ہیں کہ یہ کرپشن کے خاتمہ میں ایک سنگ میل کی حثیت رکھنے والا فیصلہ ہے اور یہ سلسلہ دور تک جاے گا۔ دوسری طرف لوگ ججوں کی اپنی Credibility یا قابل اعتبار حثیت پر انگلیاں اٹھا رہے ہیں۔ جو خود ائین کو پامال کرنے والے ڈکٹیٹر مشرف کے پی سی او پر حلف اٹھا کر صادق و امین نہیں رہے۔ اسی طرح ملٹری جنرلز، جج اور بیروکریسی کو صادق و امین والے اوصاف پر پرکھنے کا مطالبہ بھی کیا جارہا ہے۔

مندرجہ بالا بحث و نکتہ ہائے نظر گو پوری نہیں یہ ایک لمبی فہرست ہے لہذا مختصراً تحریر کیا ہے۔ مجھے نواز شریف اور اسکی جماعت سے سیاسی و نظریاتی اختلاف ہے۔ مجھے نواز حکومت کی پالیسیوں پر بھی اختلاف ہے اور مجھے نواز حکومت کی طرف سے ہمارے صوبے کو سی پیک اور دیگر ترقیاتی منصوبوں، صوبے کے حقوق بشمول ہمارے بجلی جیسے وسائیل غصب کرنے کا ذمہ دار ٹھراتا ہوں۔ میں نواز شریف کو اپنئ حکومت میں خیبر پختونخوا کو نظر انداز کرنے پر بھی ذمہ ار ٹھراتا ہوں۔

نواز شریف کے خلاف پانامہ کیس میں سزا کو انصاف کے تقاضے پورے نہ کرنے پر انصاف کا قتل قرار دیا جا سکتا ہے۔ اس کیس میں ٹرائیل شفاف نہیں ہوا اور جس ادارے کو ٹرائیل کرنا چاہئے تھا اس سے نہیں کروانے دیا گیا۔ اسی طرح اسے اپیل کا حق بھی نہیں دیا گیا۔  غیر جمہوری عناصر کے ایما پر عدلیہ یر غمال ہوئی۔ اٹھویں ترمیم کے دف

 

عہ اٹھاون۔ دو۔ب 58(2)B جیسے ضیائی امریت دور کے  تلوار سےغیر جمہوری اور امرانہ سوچ کے تحت فرد واحد کے ذریعے حکومتوں کا دھڑن تختہ کرنے روکنے کے بعد انہی غیر جمہوری قوتوں نے ضیائی امریت کے دوسرے شکنجہ 62/63 سے حکومتوں کا دھڑن تختہ کرنے سے شکار کھیلنا شروع کیا ہے۔ اس سارے کھیل میں حسب سابق کچھ سیاسی جماعتیں بی ٹیم کا کردار ادا کر رہی ہیں۔ اس سے اداروں کے ٹکراو کا خدشہ بڑھ رہا ہے۔ جو ملک اور جمہوریت دونوں کے لئے خطرناک ہے۔ جن سیاسی جماعتوں، ٹولوں اور افراد سے یہ عمل کروایا جارہا ہے ان کا اپنا دامن بھی داغدار ہے۔ اسی طرح اس سارے عمل میں پردہ نشین افراد و ادارے خود نہ تو صادق اور نہ امین کے اوصاف پر پورا اترتے ہیں۔

اس سارے عمل سے عوام کی نظروں میں منتخب سیاسی قیادت کو نااہل، نکما، جھوٹا اور کرپٹ  ثابت کرنا ہے۔ یہاں یہ بات یاد رکھنا ازحد لازم ہے کہ اس ملک کی اقتدار اعلی عوام کے پاس ہے۔ عوام جمہوریت اور جمہوری عمل کے ذریعے ہی سیاسی قیادت کا احتساب کرے گی۔ اس ملک میں افراد، اداروں اور سیاسی گروپس و پارٹیوں کو عوامی مینڈیٹ کا احترام سیکھنا چاہیے۔ اکیسویں صدی میں جہاں ریاستی سٹریکچر، معلومات کی رسائی اور فیصلہ سازی کے امور تبدیل ہوچکے ہیں ہم پاکستان میں ابھی تک افراد اور اداروں کو سازشوں کے ذریعے ہی اقتدار پر قبضہ کرنے کی کوشش

parliment

 میں مصروف ع

 

مل دیکھتے ہیں۔ سیاسی قیادت کو دور اندیشی کا مظاہرہ کرکے پارلیمنٹ کے ذریعے ائینی ترامیم سے اس ملک میں حقیقی جمہوریت، ایک ادارے کی بالا دستی ختم اور سازشوں کا ذریعہ بننے والی ترامیم و دفعات کو ختم کرکے طاقت کا توازن قائم کرنا ھوگی۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s